السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في نفي البكر باب: کنوارے زانی کو جلاوطن کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَهُ رَجُلٌ فَلَاثَ عَلَيْهِ بِلَوْثٍ مِنْ كَلَامٍ، وَهُوَ دَهِشٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قُمْ إِلَيْهِ فَانْظُرْ فِي شَأْنِهِ، فَإِنَّ لَهُ شَأْنًا، فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّهُ ضَافَهُ ضَيْفٌ فَوَقَعَ بِابْنَتِهِ، فَصَكَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي صَدْرِهِ وَقَالَ: قَبَّحَكَ اللهُ أَلَا سَتَرْتَ عَلَى ابْنَتِكَ، قَالَ: " فَأَمَرَ بِهِمَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَضُرِبَا الْحَدَّ، ثُمَّ تَزَوَّجَ أَحَدُهُمَا مِنَ الْآخَرِ، وَأَمَرَ بِهِمَا فَغُرِّبَا عَامًا أَوْ حَوْلًا " قَالَ عَلِيٌّ: هَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَخَالَفَهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فِي إِسْنَادِهِ وَلَفْظِهِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور گھما پھرا کر بات کرنے لگا اور وہ گھبرایا ہوا تھا تو آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اس سے پوچھو: کیا ہوا ہے؟ کوئی بات ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے تو اس نے بتایا کہ اس کے ہاں کوئی مہمان تھا تو وہ اس کی بیٹی پر واقع ہو گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر مارا اور کہا: اللہ تجھے برباد کرے، تو نے اپنی بیٹی کی پردہ پوشی کیوں نہیں کی؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دونوں کو بلایا اور حد لگائی اور پھر ان کی شادی کر دی اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔