السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في نفي البكر باب: کنوارے زانی کو جلاوطن کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عُبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ بَعْضَهُمْ يَجْعَلُهُ عَنْ وَاحِدٍ، قَالَ: لَكِنِّي أُحَدِّثُكَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشِبْلٍ، كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا حَفِظْنَاهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ، وَلَعَمْرِي لَقَدْ أَتْقَنَّاهُ إِتْقَانًا حَسَنًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: كَذَا قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: وَأَمَّا الْبَاقُونَ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ نَحْوِ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَصَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، وَعُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، وَشُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، وَمَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَغَيْرِهِمْ، فَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ شِبْلًا، فَاللهُ أَعْلَمُ.ابن المدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سفیان رحمہ اللہ سے کہا کہ بعض لوگ یہ حدیث صرف ایک (صحابی) سے روایت کرتے ہیں، تو انہوں نے کہا: لیکن میں آپ کو زہری رحمہ اللہ سے یہ روایت کرتا ہوں، انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے سیدنا ابوہریرہ، سیدنا زید بن خالد اور سیدنا شبل رضی اللہ عنہم سے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے۔ سفیان نے کہا: یہ ہم نے زہری کے منہ سے (سن کر) یاد کیا ہے، اور میری عمر کی قسم! ہم نے اسے خوب پختگی سے یاد کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن عیینہ نے اسی طرح کہا ہے، جبکہ زہری کے باقی شاگردوں مثلاً مالک بن انس، صالح بن کیسان، عقیل بن خالد، شعیب بن ابی حمزہ، معمر بن راشد، یونس بن یزید اور لیث بن سعد وغیرہ نے اس میں شبل کا ذکر نہیں کیا، واللہ اعلم۔