السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: المكره على الردة باب: اس شخص کا بیان جسے ارتداد پر مجبور کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 16899
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ} [النحل: ١٠٦]، قَالَ: " أَخْبَرَ اللهُ سُبْحَانَهُ إِنَّهُ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ إِيمَانِهِ فَعَلَيْهِ غَضَبٌ مِنَ اللهِ، وَلَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ، فَأَمَّا مَنْ أُكْرِهَ فَتَكَلَّمَ بِلِسَانِهِ، وَخَالَفَهُ قَلْبُهُ بِالْإِيمَانِ لِيَنْجُوَ بِذَلِكَ مِنْ عَدُوِّهِ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ، إِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ إِنَّمَا يَأْخُذُ الْعِبَادَ بِمَا عَقَدَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُهُمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة النحل: 106]، اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ بتایا ہے کہ جو اسلام کے بعد دین تبدیل کرے تو اس پر اللہ کا غضب ہے اور عذابِ عظیم ہے، لیکن جس کو مجبور کیا جائے اور وہ صرف ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے زبان سے کچھ کہہ دے تو کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر پکڑتے ہیں جو بندہ دل سے کرتا ہے۔