السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: قتل من ارتد عن الإسلام إذا ثبت عليه رجلا كان أو امرأة باب: جو شخص اسلام سے پھر جائے (مرتد ہو جائے) جب اس پر یہ ثابت ہو جائے تو اسے قتل کرنے کا بیان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔
حدیث نمبر: 16873
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا: أُمُّ قِرْفَةَ، كَفَرَتْ بَعْدَ إِسْلَامِهَا، فَاسْتَتَابَهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ تَتُبْ، فَقَتَلَهَا " قَالَ اللَّيْثُ: وَذَاكَ الَّذِي سَمِعْنَا، وَهُوَ رَأْيِي. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَقَالَ لِي مَالِكٌ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَحْتَجَّ بِهِ إِذْ كَانَ ضَعِيفًا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ. قَالَ الشَّيْخُ: ضَعْفُهُ فِي انْقِطَاعِهِ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ وَجْهَيْنِ مُرْسَلَيْنِ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن عبدالعزیز تنوخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام قرفہ نامی عورت ارتداد کا شکار ہوئی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے توبہ کا کہا، اس نے انکار کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کروا دیا۔
امام لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہی سنا ہے اور یہی میری رائے ہے۔ ابن وہب کہتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ نے بھی مجھ سے یہی کہا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم اس سے دلیل نہیں لے سکتے تھے کیونکہ یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: اس کا ضعف اس کے منقطع ہونے کی وجہ سے ہے، اور ہم نے اسے دو مرسل سندوں سے روایت کیا ہے۔