السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: قتل من ارتد عن الإسلام إذا ثبت عليه رجلا كان أو امرأة باب: جو شخص اسلام سے پھر جائے (مرتد ہو جائے) جب اس پر یہ ثابت ہو جائے تو اسے قتل کرنے کا بیان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔
حدیث نمبر: 16871
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: فَخَالَفَنَا بَعْضُ النَّاسِ فِي الْمُرْتَدَّةِ، وَكَانَتْ حُجَّتُهُ شَيْئًا رَوَاهُ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ عَنِ الْإِسْلَامِ تُحْبَسُ وَلَا تُقْتَلُ، فَكَلَّمَنِي بَعْضُ مَنْ يَذْهَبُ هَذَا الْمَذْهَبَ، وَبِحَضْرَتِنَا جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، فَسَأَلْنَاهُمْ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَمَا عَلِمْتُ مِنْهُمْ وَاحِدًا سَكَتَ أَنْ قَالَ: هَذَا خَطَأٌ، وَالَّذِي رَوَى هَذَا لَيْسَ مِمَّنْ يُثْبِتُ أَهْلُ الْحَدِيثِ حَدِيثَهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَتَلَ نِسْوَةً ارْتَدَدْنَ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَكَيْفَ لَمْ يُصَرْ إِلَيْهِ؟.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرتدہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ اسے قید کیا جائے، قتل نہ کیا جائے۔ اس مذہب کے قائلین میں سے بعض نے اہل علم کی مجلس میں مجھ سے گفتگو کی تو میں نے ان سے اس حدیث کے ثبوت کے بارے میں سوال کیا تو ان میں سے ایک نے بھی بات نہ کی، سب خاموش ہو گئے۔