السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: قتل من ارتد عن الإسلام إذا ثبت عليه رجلا كان أو امرأة باب: جو شخص اسلام سے پھر جائے (مرتد ہو جائے) جب اس پر یہ ثابت ہو جائے تو اسے قتل کرنے کا بیان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: فَخَالَفَنَا بَعْضُ النَّاسِ فِي الْمُرْتَدَّةِ، وَكَانَتْ حُجَّتُهُ شَيْئًا رَوَاهُ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ عَنِ الْإِسْلَامِ تُحْبَسُ وَلَا تُقْتَلُ، فَكَلَّمَنِي بَعْضُ مَنْ يَذْهَبُ هَذَا الْمَذْهَبَ، وَبِحَضْرَتِنَا جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، فَسَأَلْنَاهُمْ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَمَا عَلِمْتُ مِنْهُمْ وَاحِدًا سَكَتَ أَنْ قَالَ: هَذَا خَطَأٌ، وَالَّذِي رَوَى هَذَا لَيْسَ مِمَّنْ يُثْبِتُ أَهْلُ الْحَدِيثِ حَدِيثَهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَتَلَ نِسْوَةً ارْتَدَدْنَ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَكَيْفَ لَمْ يُصَرْ إِلَيْهِ؟.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرتدہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ اسے قید کیا جائے، قتل نہ کیا جائے۔ اس مذہب کے قائلین میں سے بعض نے مجھ سے گفتگو کی جبکہ ہمارے پاس اہل علم حدیث کی ایک جماعت موجود تھی، تو ہم نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو میرے علم میں ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو یہ کہنے سے خاموش رہا ہو کہ یہ غلطی ہے، اور جس نے اسے روایت کیا ہے وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی حدیث کو محدثین ثابت مانتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اسلام سے مرتد ہونے والی کچھ عورتوں کو قتل کیا، تو اس کو کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟