السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: قتل من ارتد عن الإسلام إذا ثبت عليه رجلا كان أو امرأة باب: جو شخص اسلام سے پھر جائے (مرتد ہو جائے) جب اس پر یہ ثابت ہو جائے تو اسے قتل کرنے کا بیان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔
حدیث نمبر: 16862
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ آمَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَقَالَ: " اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي رِدَّتِهِمْ، وَرُجُوعِ بَعْضِهِمْ، وَقَتْلِ الْبَعْضِ وَذَلِكَ يَرِدُ بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ نے تمام لوگوں کو امن دے دیا تھا مگر چار لوگوں اور دو عورتوں کے متعلق فرمایا تھا: ”اگر وہ کعبہ کے پردے سے بھی لٹکے ہوں تو ان کو قتل کر دو۔“