السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: النهي عن القتال في الفرقة ومن ترك قتال الفئة الباغية خوفا من أن يكون قتالا في الفرقة باب: تفرقے کی صورت میں قتال کی ممانعت، اور اس شخص کا بیان جس نے اس خوف سے باغی گروہ سے قتال ترک کر دیا کہ کہیں یہ تفرقے والا قتال نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16803
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٣٣٢⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُبٍ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَخَذَ بَيْعَتِي عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ مَنْ قَاتَلَ، وَأُحَارِبَ مَنْ حَارَبَ، وَإِنَّهُ يَدْعُونِي إِلَى قِتَالِ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ: افْتَدِهِ بِمَالِكَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ أَبَوْا إِلَّا أَنْ أُقَاتِلَ مَعَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، وَاللهِ مَا كَذَبَنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَدْ تَعَلَّقَ بِالرَّجُلِ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ قَتَلَنِي هَذَا " قَالَ: " فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَلَى مَا قَتَلْتَ هَذَا؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابو عمران جونی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیعت لی تھی کہ جو ان سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا، اب وہ مجھے اہل شام سے لڑنے کے لیے بلا رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: فدیہ دے دو۔ میں نے کہا: انہوں نے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ بس یہی ہے کہ میں ان سے لڑوں، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ کے نبی ﷺ نے جھوٹ نہیں بولا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن بندہ آئے گا اور دوسرے آدمی کا ہاتھ تھامے ہو گا، وہ کہے گا: اے اللہ! اس نے مجھے قتل کیا، اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: کیوں؟ وہ کہے گا: تاکہ فلاں کی بادشاہت قائم ہو۔“