السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: النهي عن القتال في الفرقة ومن ترك قتال الفئة الباغية خوفا من أن يكون قتالا في الفرقة باب: تفرقے کی صورت میں قتال کی ممانعت، اور اس شخص کا بیان جس نے اس خوف سے باغی گروہ سے قتال ترک کر دیا کہ کہیں یہ تفرقے والا قتال نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16801
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ أَصْنَعُ إِذَا اخْتَلَفَ الْمُصَلُّونَ؟ قَالَ: " تَخْرُجُ بِسَيْفِكَ إِلَى الْحَرَّةِ فَتَضْرِبَ بِهَا، ثُمَّ تَدْخُلُ بَيْتَكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِيَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا: جب مسلمانوں میں اختلاف ہو جائے تو میں کیا کروں؟ تو فرمایا: ”اپنی تلوار لے کر پہاڑ پر چلے جانا، اسے وہاں توڑ دینا اور اپنے گھر میں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ تجھے طبعی موت آ جائے یا کوئی تجھے قتل کر دے۔“