السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب تأكيد السواك عند الأزم باب: منہ کی بو تبدیل ہونے کے وقت مسواک کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 168
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ جُنَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مَلْحَانَ، ثنا عَمْرٌو هُوَ ابْنُ خَالِدٍ، أنا زُهَيْرٌ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ، فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِخْلَافًا، فَقَالَ لَهُ: " أَمَا تَسْتَاكُ؟ ". قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ مِنْ ثَلَاثٍ. فَأَمَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَآوَاهُ وَقَضَى حَاجَتَهُ. لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ. وَهَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ زُهَيْرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو شخص نبی ﷺ کے پاس آئے، ان دونوں کا کام ایک ہی تھا، ان میں سے ایک نے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے بدبو محسوس کی، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تو مسواک نہیں کرتا؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا۔ آپ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا، اس نے اس کی مدد کی اور اس کی ضرورت کو پورا کیا۔