السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: النهي عن القتال في الفرقة ومن ترك قتال الفئة الباغية خوفا من أن يكون قتالا في الفرقة باب: تفرقے کی صورت میں قتال کی ممانعت، اور اس شخص کا بیان جس نے اس خوف سے باغی گروہ سے قتال ترک کر دیا کہ کہیں یہ تفرقے والا قتال نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُنَادِي، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ: ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ، أَلَا فَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا، أَلَا وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ فِيهَا، أَلَا وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ أَلَا فَإِذَا نَزَلَتْ فَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، أَلَا وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، أَلَا وَمَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَيْسَ لَهُ غَنَمٌ وَلَا إِبِلٌ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: " فَلْيَأْخُذْ سَيْفَهُ ثُمَّ لِيَعْمَدْ بِهِ إِلَى صَخْرَةٍ، ثُمَّ لِيَدُقَّهُ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ بِهِ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ، اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " فَقَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُخِذَ بِيَدِي مُكْرَهًا حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ، أَوْ أَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ، عُثْمَانُ شَكَّ فَيَحْذِفُنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ فَيَقْتُلُنِي، مَاذَا يَكُونُ مِنْ شَأْنِي؟ قَالَ: " يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ.سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عن قریب ایسے فتنے ہوں گے جن میں پیدل سوار سے، بیٹھا کھڑے سے، لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے سے بہتر ہوگا۔ لہٰذا جو بکریاں رکھتا ہو یا زمین یا اونٹ رکھتا ہو تو وہ وہیں ان میں رہ لے۔“ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ مجھے آپ پر قربان کر دے، جس کے پاس یہ چیزیں نہ ہوں وہ کیا کرے؟ فرمایا: ”وہ اپنی تلوار پکڑے چٹان پہاڑ پر چلا جائے، اس کی دھار کو تیز کرلے اور جس طرح ہو سکے اپنے آپ کو ان سے بچا کر رکھے۔ اے اللہ! میں نے پہنچا دیا۔ اے اللہ! میں نے پہنچا دیا۔“ پھر ایک شخص نے پہلے شخص کی طرح سوال کیا کہ اگر کوئی مجھے زبردستی کسی گروہ میں لے جائے اور پھر کوئی مجھے اپنی تلوار سے قتل کر دے تو میرا انجام کیا ہوگا؟ فرمایا: ”تیرا اور اس کا گناہ اس پر ہوگا اور وہ جہنمی ہوگا۔“