السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: النهي عن القتال في الفرقة ومن ترك قتال الفئة الباغية خوفا من أن يكون قتالا في الفرقة باب: تفرقے کی صورت میں قتال کی ممانعت، اور اس شخص کا بیان جس نے اس خوف سے باغی گروہ سے قتال ترک کر دیا کہ کہیں یہ تفرقے والا قتال نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16793
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُوسَى الْحُنَيْنِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ⦗٣٢٩⦘ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ، فَتَلَقَّانِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ، قَالَ: ارْجِعْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: " إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ.حافظ ثناء اللہ
احنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کی مدد کا ارادہ کیا تو مجھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ملے، انہوں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: اس آدمی کی مدد کروں، تو انہوں نے فرمایا: واپس چلے جاؤ، میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے: ”جب دو مسلمان تلوار اٹھا کر لڑیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں ہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قاتل تو ٹھیک ہے، مقتول کا کیا جرم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بھی تو اپنے ساتھی کو قتل کرنے پر حریص تھا۔“