السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الخوارج يعتزلون جماعة الناس، ويقتلون واليهم من جهة الإمام العادل قبل أن ينصبوا إماما، ويعتقدوا ويظهروا حكما مخالفا لحكمه، كان في ذلك عليهم القصاص باب: خوارج جب لوگوں کی جماعت سے الگ ہو جائیں اور عادل حکمران کی طرف سے مقرر کردہ اپنے حاکم کو اپنا امام مقرر کرنے سے پہلے، اور حکمران کے حکم کے خلاف کوئی عقیدہ یا حکم ظاہر کرنے سے پہلے ہی قتل کر دیں، تو اس صورت میں ان پر قصاص لازم ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ ابْنُ مُبَشِّرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَى أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَبَسَّطُوا عَلَى الْخَوَارِجِ حَتَّى يُحْدِثُوا حَدَثًا، فَمَرُّوا بِعَبْدِ اللهِ بْنِ خَبَّابٍ فَأَخَذُوهُ فَانْطَلَقُوا بِه، فَمَرُّوا عَلَى تَمْرَةٍ سَاقِطَةٍ مِنْ نَخْلَةِ فَأَخَذَهَا بَعْضُهُمْ فَأَلْقَاهَا فِي فَمِهِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ: تَمْرَةُ مُعَاهَدٍ فَبِمَ اسْتَحْلَلْتَهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ خَبَّابٍ: أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَعْظَمُ حُرْمَةً عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَنَا، فَقَتَلُوهُ. فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَنْ أَقِيدُونَا بِعَبْدِ اللهِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالُوا: كَيْفَ نُقِيدُكَ بِهِ وَكُلُّنَا قَتَلَهُ؟ قَالَ: وَكُلُّكُمْ قَتَلَهُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ يَبْسُطُوا عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: وَاللهِ لَا يُقْتَلُ مِنْكُمْ عَشْرَةٌ، وَلَا يَفْلِتُ مِنْهُمْ عَشْرَةٌ، قَالَ: فَقَتَلُوهُمْ، قَالَ: فَقَالَ: اطْلُبُوا فِيهِمْ ذَا الثُّدَيَّةِ قَالَ: وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو منع کر دیا تھا کہ خوارج پر اس وقت تک حملہ نہ کرنا جب تک کہ ان کی طرف سے کوئی (کارروائی) نہ ہو، پھر وہ (خوارجی) سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، ان کو پکڑا اور لے کر چلے یہاں تک کہ وہ گری ہوئی کھجوروں کے پاس سے گزرے؛ ان میں سے بعض نے (کھجوریں) اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیں تو بعض کہنے لگے: یہ تو ذمیوں کی کھجوریں ہیں، یہ کیسے حلال ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا میں اس سے بھی بڑی حرمت کی طرف تمہاری توجہ نہ دلاؤں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو (جب انہوں نے اپنی جان کی حرمت کا ذکر کیا) تو انہوں نے ان کو قتل کر دیا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ان لوگوں سے کہا: عبداللہ کا قصاص دو یا دیت ادا کرو۔ وہ کہنے لگے: ہم سب نے انہیں قتل کیا ہے، ہم قصاص کیسے دیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم سب نے انہیں قتل کیا ہے؟ تو وہ بولے: ہاں! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور حملے کا حکم دے دیا، راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان میں سے دس بھی نہیں بچے، (انہیں) قتل کر دیا گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان میں سے اس پستان والے (مخدج) کو تلاش کرو، پھر مکمل حدیث بیان کی۔