السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الدليل على أن الفئة الباغية منهما لا تخرج بالبغي عن تسمية الإسلام باب: اس دلیل کا بیان کہ ان دونوں میں سے باغی گروہ اپنی بغاوت کی وجہ سے اسلام کے نام سے خارج نہیں ہوتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: رَأَى عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ، وَكَانَ مِنْ أَفَاضِلِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِقِبَابٍ مَضْرُوبَةٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: لِذِي كَلَاعٍ وَحَوْشَبٍ، وَكَانَا مِمَّنْ قُتِلَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلَ عَمَّارٌ وَأَصْحَابُهُ؟ قَالُوا: أَمَامَكَ، قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللهِ وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَقُوا اللهَ فَوَجَدُوهُ وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلَ أَهْلُ النَّهْرِ؟، قَالَ: لَقُوا بَرَحًا، فَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ: فَسَمِعْتُ يَزِيدَ فِي الْمَجْلِسِ بِبَغْدَادَ، وَكَانَ يُقَالُ: إِنَّ فِي الْمَجْلِسِ سَبْعِينَ أَلْفًا، قَالَ: لَا تَغْتَرُّوا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَإِنَّ ذَا الْكَلَاعِ وَحَوْشَبًا أَعْتَقَا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ أَهْلِ بَيْتٍ، وَذَكَرَ مِنْ مَحَاسِنِهِمْ أَشْيَاءً.ابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ، جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قریبی اصحاب میں سے تھے، انہوں نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں بڑے بڑے گنبد دیکھے، میں نے پوچھا: یہ کن کے لیے ہیں؟ تو جواب ملا: یہ ذو الکلاع اور ذو الحوشب کے لوگوں کے لیے ہیں۔ یہ دونوں وہ تھے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقتول ہوئے تھے۔ میں نے کہا: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا کیا بنا؟ کہا: وہ آپ کے آگے ہیں۔ میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ!“ انہوں نے تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کیا ہے، پھر اکٹھے؟ تو جواب ملا: انہوں نے اللہ کی مغفرت کو بڑا وسیع پایا۔ میں نے کہا: اہل النہر کے ساتھ کیا ہوا؟ کہا: وہ تکلیف کو پہنچے۔ یحییٰ بن ابی طالب کہتے ہیں: میں نے یزید سے ایک مجلس میں سنا، وہ بغداد میں تھے اور مجلس میں ستر ہزار لوگ تھے، وہ کہنے لگے: یہ حدیث تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے، بیشک ذو الکلاع اور ذو الحوشب نے بارہ ہزار (12000) اہل بیت کو آزاد کیا تھا اور بھی ان کے محاسن بیان کیے۔