حدیث نمبر: 16718
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيُّ، ثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثَنَا عَوْفٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَاشِمَةِ: لَمَّا فَرَغَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَمَلِ وَنَزَلَتْ عَائِشَةُ مَنْزِلَهَا، دَخَلْتُ عَلَيْهَا فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: خَالِدُ بْنُ الْوَاشِمَةِ، قَالَتْ: مَا فَعَلَ طَلْحَةُ؟ قُلْتُ: أُصِيبَ، قَالَتْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، يَرْحَمُهُ اللهُ، قَالَتْ: فَمَا فَعَلَ الزُّبَيْرُ؟ قُلْتُ: أُصِيبَ، قَالَتْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، يَرْحَمُهُ اللهُ، قُلْتُ: بَلْ نَحْنُ لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فِي زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، قَالَتْ: وَأُصِيبَ زَيْدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، يَرْحَمُهُ اللهُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ذَكَرْتُ طَلْحَةَ فَقُلْتِ: يَرْحَمُهُ اللهُ، ⦗٣٠٢⦘ وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ فَقُلْتِ: يَرْحَمُهُ اللهُ، وَذَكَرْتُ زَيْدًا فَقُلْتِ: يَرْحَمُهُ اللهُ، وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَاللهِ لَا يَجْمَعُهُمُ اللهُ فِي جَنَّةٍ أَبَدًا، قَالَتْ: أَوَ لَا تَدْرِي أَنَّ رَحْمَةَ اللهِ وَاسِعَةٌ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِْيرٌ، قَالَ: فَكَانَتْ أَفْضَلَ مِنِّي،.
حافظ ثناء اللہ

خالد بن واشمہ کہتے ہیں کہ جب جنگِ جمل ختم ہوگئی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی منزل میں اتر گئیں، میں ان کے پاس گیا اور کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكِ» ”آپ پر سلامتی ہو“ اے ام المومنین! انہوں نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: خالد بن واشمہ۔ پوچھا: طلحہ (رضی اللہ عنہ) کا کیا بنا؟ میں نے کہا: شہید ہوگئے۔ انہوں نے کہا: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“، اللہ ان پر رحم فرمائے۔ پوچھا: زبیر (رضی اللہ عنہ) کا کیا ہوا؟ میں نے کہا: وہ بھی شہید ہوگئے تو پھر «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا اور فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے۔ میں نے کہا: زید بن صوحان (رضی اللہ عنہ) بھی شہید ہوگئے تو انہوں نے فرمایا: واقعی! اور پھر «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا اور رحم کی دعا کی۔ میں نے کہا: بلکہ ہم سب پر «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھنی چاہیے کہ ہم نے ایک دوسرے کو مارا ہے۔ کیا زید، طلحہ، زبیر (رضی اللہ عنہم) کو اللہ جنت میں داخل کرے گا، جمع کرے گا؟ تو وہ فرمانے لگیں: کیا تجھے نہیں پتہ کہ اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے؟ تو کہا: یہ ایک زائد چیز ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16718
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»