السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الدليل على أن الفئة الباغية منهما لا تخرج بالبغي عن تسمية الإسلام باب: اس دلیل کا بیان کہ ان دونوں میں سے باغی گروہ اپنی بغاوت کی وجہ سے اسلام کے نام سے خارج نہیں ہوتا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً، ثَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ، مَوْلَى طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ بَعْدَمَا فَرَغَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَمَلِ، قَالَ: فَرَحَّبَ بِهِ وَأَدْنَاهُ وَقَالَ: إِنِّي " لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَنِي اللهُ وَأَبَاكَ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللهُ ⦗٣٠١⦘ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرَرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: ٤٧]، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي كَيْفَ فُلَانَةٌ؟ كَيْفَ فُلَانَةٌ؟ قَالَ: وَسَأَلَهُ عَنْ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِ أَبِيهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: لَمْ نَقْبِضْ أَرْضَكُمْ هَذِهِ السِّنِينَ إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ يَنْتَهِبَهَا النَّاسُ، يَا فُلَانُ انْطَلِقْ مَعَهُ إِلَى ابْنِ قَرَظَةَ مَرَّةً فَلْيُعْطِهِ غَلَّةَ هَذِهِ السِّنِينَ، وَيَدْفَعْ إِلَيْهِ أَرْضَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلَانِ جَالِسَانِ، نَاحِيَةُ أَحَدِهِمَا الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ: اللهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ، أَنْ نَقْتُلَهُمْ وَيَكُونُوا إِخْوَانَنَا فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: قُومَا أَبْعَدَ أَرْضِ اللهِ وَأَسْحَقَهَا، فَمَنْ هُوَ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَنَا وَطَلْحَةُ، يَا ابْنَ أَخِي إِذَا كَانَتْ لَكَ حَاجَةٌ فَأْتِنَا، لَفْظُ حَدِيثِ الطَّنَافِسِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: دَخَلَ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَمْ يُسَمِّ الْحَارِثَ، وَقَالَ: إِلَى بَنِي قَرَظَةَ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو حبیبہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ساتھ عمران بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنگِ جمل کے بعد تو آپ نے ہمیں «مَرْحَبًا» ”مرحبا“ کہا اور اپنے قریب بٹھایا اور فرمایا: مجھے امید ہے کہ مجھے اور آپ کے والد کو اللہ اس آیت میں شامل کرے: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ﴾ [سورة الأعراف: 43، سورة الحجر: 47] اور پھر فرمایا: اے بھتیجے! فلانہ، فلانہ، فلانہ کیسی ہیں؟ اس سے اس کے باپ کی ام ولد لونڈیوں کے بارے میں پوچھا، پھر فرمایا: ہم نے ان سالوں میں تمہاری زمین پر قبضہ صرف اس ڈر سے رکھا کہ کہیں لوگ اسے لوٹ نہ لیں اور کہا: اے فلاں! اس کے ساتھ ابن قرظہ کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ اسے ان سالوں کا غلہ دے دے اور ان کی زمین بھی لوٹا دے۔ آپ کے پہلو میں دو آدمی بیٹھے تھے، ان میں سے ایک کہنے لگا، جس کا نام حارث اعور تھا کہ اللہ سب سے بڑا عادل ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم ان سے لڑیں بھی اور پھر جنت میں وہ ہمارے بھائی بھی ہیں؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دونوں کھڑے ہو جاؤ اور اللہ کی سب سے دور زمین میں چلے جاؤ، اگر میں اور طلحہ رضی اللہ عنہما (اس آیت کے مصداق) نہیں تو پھر اور کون ہوگا؟ اے بھتیجے! اگر کوئی ضرورت ہو تو میرے پاس آنا۔