السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الدليل على أن الفئة الباغية منهما لا تخرج بالبغي عن تسمية الإسلام باب: اس دلیل کا بیان کہ ان دونوں میں سے باغی گروہ اپنی بغاوت کی وجہ سے اسلام کے نام سے خارج نہیں ہوتا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، ثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّا صَالَحَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقَالَ هُشَيْمٌ: لَمَّا سَلَّمَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَمْرَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِالنَّخِيلَةِ: قُمْ فَتَكَلَّمْ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ الْتُّقَى، وَإِنَّ أَعْجَزَ الْعَجْزِ الْفُجُورُ، أَلَا وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي اخْتَلَفْتُ فِيهِ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ حَقٌّ لِامْرِئٍ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنِّي، أَوْ حَقٌّ لِي تَرَكْتُهُ لِمُعَاوِيَةَ إِرَادَةَ إِصْلَاحِ الْمُسْلِمِينَ وَحَقْنِ دِمَائِهِمْ، {وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ} [الأنبياء: ١١١] " ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ.ہشیم کہتے ہیں کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہما، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہو گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: ”کھڑے ہوں اور بات کریں“، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہما نے حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد! عقلمندی تقویٰ میں ہے اور عجز گناہوں میں ہے، بے شک اس معاملہ میں میرا اور معاویہ (رضی اللہ عنہ) کا اختلاف تھا۔ معاویہ مجھ سے زیادہ حق دار تھا، میرا جو حق تھا وہ میں نے معاویہ کے لیے چھوڑ دیا، مسلمانوں کی اصلاح کے لیے اور ان کے خون کی حفاظت کے لیے: ﴿وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ﴾ [سورة الأنبياء: 111]“، پھر استغفار کی اور اتر گئے۔