السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما على السلطان من القيام فيما ولي بالقسط، والنصح للرعية، والرحمة بهم، والشفقة عليهم، والعفو عنهم ما لم يكن حدا باب: حکمران پر عائد ہونے والی ان ذمہ داریوں کا بیان کہ وہ اپنے زیرِ انتظام امور میں انصاف قائم کرے، رعایا کے ساتھ خیر خواہی، شفقت اور رحم دلی سے پیش آئے، اور انہیں معاف کرے جب تک کہ وہ معاملہ شرعی حد کا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16644
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ أَبُو الْعَوَّامِ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُوْصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِتَقْوَى اللهِ، وَأُوصِيهِ بِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يُعَظِّمَ كَبِيرَهُمْ، وَيَرْحَمَ صَغِيرَهُمْ، وَيُوَقِّرَ عَالِمَهُمْ، وَأَنْ لَا يَضْرِبَهُمْ فَيُذِلَّهُمْ، وَلَا يُوحِشَهُمْ فَيُكَفِّرَهُمْ، وَأَنْ لَا يُخْصِيهِمْ فَيَقْطَعَ نَسْلَهُمْ، وَأَنْ لَا يُغْلِقَ بَابَهُ دُونَهُمْ فَيَأْكُلُ قَوِيُّهُمْ ضَعِيفَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنے بعد آنے والے خلفاء کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ اللہ سے ڈرتے رہیں اور مسلمانوں کی جماعت کے لیے اسے وصیت کرتا ہوں کہ بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کرے، ان کے علماء کی عزت کریں، نہ انہیں نقصان پہنچائیں اور نہ ذلیل کریں، نہ ان کو ڈرائیں کہ وہ کفر کریں، نہ ان کو خصی کریں کہ ان کی نسل ختم ہو جائے، اپنے دروازے بند نہ کریں کہ طاقتور ضعیف کو کھا جائے۔“