السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما على السلطان من القيام فيما ولي بالقسط، والنصح للرعية، والرحمة بهم، والشفقة عليهم، والعفو عنهم ما لم يكن حدا باب: حکمران پر عائد ہونے والی ان ذمہ داریوں کا بیان کہ وہ اپنے زیرِ انتظام امور میں انصاف قائم کرے، رعایا کے ساتھ خیر خواہی، شفقت اور رحم دلی سے پیش آئے، اور انہیں معاف کرے جب تک کہ وہ معاملہ شرعی حد کا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16640
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ " شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ "، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ "، فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ، إِنَّمَا كَانَتِ النَّخْلَةُ بَعْدَهُمْ، وَفِي غَيْرِهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو اصحابِ رسول ﷺ میں سے ہیں، عبید اللہ بن زیاد کے پاس آئے تو انہوں نے اس سے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ» ”جو برا امیر ہے وہ جہنم کی حطمہ وادی میں ہوگا، تو اپنے آپ کو اس سے بچاؤ۔“ اس نے ان کو کہا: ”بیٹھ جاؤ! تم تو اصحابِ محمد ﷺ کی بھوسی ہو۔“ انہوں نے کہا: ”کیا ان کی بھی بھوسی ہے؟“ فرمایا: ”ہاں! ان کی بھوسی ان کے بعد اور ان کے غیروں میں ہے۔“