السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما على السلطان من القيام فيما ولي بالقسط، والنصح للرعية، والرحمة بهم، والشفقة عليهم، والعفو عنهم ما لم يكن حدا باب: حکمران پر عائد ہونے والی ان ذمہ داریوں کا بیان کہ وہ اپنے زیرِ انتظام امور میں انصاف قائم کرے، رعایا کے ساتھ خیر خواہی، شفقت اور رحم دلی سے پیش آئے، اور انہیں معاف کرے جب تک کہ وہ معاملہ شرعی حد کا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16637
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ رَاعٍ عَنِ النَّاسِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْل بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَامْرَأَةُ الرَّجُلِ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ بَعْلِهَا وَرَعِيَّتِهَا، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، أَلَا وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ اللَّيْثِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِ، عَنْ نَافِعٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس کی رعایا کے بارے میں اس سے سوال ہوگا۔ امیر لوگوں پر نگران ہے۔ گھر کا سربراہ گھر والوں پر، بیوی خاوند کے گھر اور اس کی اولاد پر اور غلام اپنے مالک کے مال پر نگران ہے اور سب سے ان کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“