السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: إثم الغادر للبر والفاجر باب: نیک ہو یا بد، کسی کے ساتھ بھی غداری کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 16635
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو يَعْلَى، ثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمَ غَدْرًا مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر دھوکے باز کے لیے قیامت کے دن اس کے دھوکے کے مطابق بلند جھنڈا ہو گا اور اپنے عام امیر سے غداری کرنے سے بڑا دھوکا کوئی نہیں ہے۔“