السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الصبر على أذى يصيبه من جهة إمامه، وإنكار المنكر من أموره بقلبه، وترك الخروج عليه باب: امام کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنے، اس کے خلافِ شرع کاموں کو دل سے برا جاننے اور اس کے خلاف بغاوت (خروج) ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16628
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْد اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَبَا أُمَيَّةَ " لَعَلَّكَ إِنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَأَطِعِ الْإِمَامَ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا، إِنْ ضَرَبَكَ فَاصْبِرْ، وَإِنْ أَمَرَكَ بِأَمْرٍ فَاصْبِرْ، وَإِنْ حَرَمَكَ فَاصْبِرْ، وَإِنْ ظَلَمَكَ فَاصْبِرْ، وَإِنْ أَمَرَكَ بِأَمْرٍ يُنْقِصُ دِينَكَ فَقُلْ: سَمْعٌ وَطَاعَةٌ، دَمِي دُونَ دِينِي " ⦗٢٧٥⦘.حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو امیہ! شاید میرے بعد تم پر خلیفہ آئیں تو ان کی اطاعت کرنا چاہے وہ حبشی غلام ہی ہوں۔ اگر تجھے وہ مارے یا کسی چیز کا حکم دے یا تجھے محروم کرے یا تجھ پر ظلم کرے تو صبر کرنا۔ اگر ایسی بات کا حکم دے جس سے تیرے دین میں کمی ہو تو کہنا: «السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ» ”سمع و طاعت“ میرے خون میں ہے، دین میں نہیں۔