السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الصبر على أذى يصيبه من جهة إمامه، وإنكار المنكر من أموره بقلبه، وترك الخروج عليه باب: امام کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنے، اس کے خلافِ شرع کاموں کو دل سے برا جاننے اور اس کے خلاف بغاوت (خروج) ترک کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي السُّلَمِيَّ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ، أَنَّ حَبِيبَ بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ الْمِقْدَامَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ مَا كَانَ، فَإِنْ أَمَرُوكُمْ بِمَا حَدَّثْتُكُمْ بِهِ فَإِنَّهُمْ يُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ، وَتُؤْجَرُونَ بِطَاعَتِكُمْ، وَإِنْ أَمَرُوكُمْ بِشَيْءٍ مِمَّا لَمْ آمُرُكُمْ بِهِ فَهُوَ عَلَيْهِمْ، وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرْءًا، ذَلِكَ بِأَنَّكُمْ إِذَا لَقِيتُمُ اللهَ قُلْتُمْ: رَبَّنَا لَا ظُلْمَ، فَيَقُولُ: لَا ظُلْمَ، فَتَقُولُونَ: رَبَّنَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رُسُلًا فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ، وَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا خُلَفَاءَ فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ، وَأَمَّرْتَ عَلَيْنَا أُمَرَاءَ فَأَطَعْنَاهُمْ "، قَالَ: " فَيَقُولُ: صَدَقْتُمْ، هُوَ عَلَيْهِمْ، وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرْءًا ".سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں نبی ﷺ نے فرمایا: ”اپنے امراء کی اطاعت کرنا، اگر وہ تمہیں میری باتوں کا حکم دیں انہیں بھی اس کا اجر ملے گا اور تمہیں بھی اطاعت کا اجر ملے گا اور اگر وہ میری باتوں کے علاوہ کسی اور چیز کا حکم دیں تو وہ ان پر وبال ہے، تم اس سے بری ہو؛ کیونکہ جب تم اللہ سے ملو گے تو تم کہنا: اے ہمارے رب! ظلم نہیں، تو اللہ فرمائیں گے: ظلم نہیں۔ تو تم کہنا: اے ہمارے رب! تو نے ہم میں رسول بھیجے، ہم نے ان کی اطاعت کی، پھر خلفاء بھیجے تیرے حکم سے ان کی بھی اطاعت کی، پھر امراء بھیجے تو تیرے ہی حکم سے ان کی بھی اطاعت کی۔ اللہ فرمائیں گے: تم سچ کہتے ہو وہ ان پر وبال ہے، تم بری ہو۔“