السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الصبر على أذى يصيبه من جهة إمامه، وإنكار المنكر من أموره بقلبه، وترك الخروج عليه باب: امام کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنے، اس کے خلافِ شرع کاموں کو دل سے برا جاننے اور اس کے خلاف بغاوت (خروج) ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16624
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ يَزِيدُ بْنُ سَلَمَةَ الْجُعْفِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَنَا حَقَّهُمْ، وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ: " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ". ⦗٢٧٤⦘.حافظ ثناء اللہ
سیدنا یزید بن سلمہ جعفی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سوال کیا: ”یا رسول اللہ! اگر ہم پر ایسے حکمران آئیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں لیکن ہمارا حق ادا نہ کریں تو ہم کیا کریں؟“ تو آپ ﷺ نے اس سے اعراض کر لیا۔ انہوں نے پھر پوچھا، آپ ﷺ نے پھر اعراض کر لیا، پھر انہوں نے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان کی فرمان برداری کرو، تم اپنے عمل کے مکلف ہو اور وہ اپنے عمل کے۔“