السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الصبر على أذى يصيبه من جهة إمامه، وإنكار المنكر من أموره بقلبه، وترك الخروج عليه باب: امام کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنے، اس کے خلافِ شرع کاموں کو دل سے برا جاننے اور اس کے خلاف بغاوت (خروج) ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16620
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُّ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا " سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ قَالَ هِشَامٌ: بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ فَقَدْ سَلِمَ، لَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ "، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا نَقْتُلُهُمْ؟ قَالَ: " لَا، مَا صَلُّوا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ بِلِسَانِهِ، وَلَا بِقَلْبِهِ، وَإِنَّمَا هُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ..حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب ایسے ائمہ (حکمران) آئیں گے کہ تم ان کے بعض کاموں کو پہچانو گے اور بعض کا انکار کرو گے، ہشام نے کہا: جس نے اپنی زبان سے انکار کیا وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ سالم رہا، لیکن جو راضی ہو گیا اور ان کی پیروی کی۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔“