السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الصبر على أذى يصيبه من جهة إمامه، وإنكار المنكر من أموره بقلبه، وترك الخروج عليه باب: امام کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنے، اس کے خلافِ شرع کاموں کو دل سے برا جاننے اور اس کے خلاف بغاوت (خروج) ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16618
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَكُونُ بَعْدِي خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ، وَسَيَكُونُ بَعْدَهُمْ خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا لَا يَعْلَمُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ عَلَيْهِمْ بَرِئٌ، وَمَنْ أَمْسَكَ يَدَهُ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے خلفاء ہوں گے جو اپنے علم کے مطابق عمل کریں گے، جو انہیں حکم دیا جائے گا وہ کریں گے اور پھر ایسے حکمران ہوں گے جو بغیر علم کے عمل کریں گے اور وہ کریں گے جو انہیں کہا نہیں گیا۔ جس نے انکار کیا وہ بری ہو گیا اور جس نے اپنے ہاتھ کو روکا وہ سالم رہا، لیکن جو ان پر راضی ہوا اور ان کی پیروی کی۔“