السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: جواز تولية الإمام من ينوب عنه، وإن لم يكن قرشيا باب: امام کے لیے اپنے کسی ایسے نائب کو مقرر کرنے کے جواز کا بیان خواہ وہ قریشی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16600
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، ثنا يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ الْأَحْمَسِيِّ، أَخْبَرَتْنِي جَدَّتِي، وَاسْمُهَا أُمُّ حُصَيْنٍ الْأَحْمَسِيَّةُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيُّ، مَا قَادَكُمْ بِكِتَابِ اللهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
ام حصین احمسہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اگر تم پر حبشی غلام بھی عامل بنایا جائے تو کتاب اللہ کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کی اطاعت کرو۔“