السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: جواز تولية الإمام من ينوب عنه، وإن لم يكن قرشيا باب: امام کے لیے اپنے کسی ایسے نائب کو مقرر کرنے کے جواز کا بیان خواہ وہ قریشی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16598
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِهْرَانَ الدَّيْنَوَرِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ صَدَقَةَ الدَّيْنَوَرِيُّ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ أَبُوهُ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر امیر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، لوگوں نے ان کی امارت کو برا سمجھا اور طعن کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کی امارت میں طعن کر رہے ہو، کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے اس کے والد کے بارے میں بھی تم ایسا کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! یہ امارت کا سب سے زیادہ حق دار ہے اور اس کا والد مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھا اور اب ان کے بعد یہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔“