السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: من لا يكون سحره كفرا ولم يقتل به أحدا لم يقتل باب: جس کا جادو کفر کی حد تک نہ پہنچا ہو اور اس نے اس کے ذریعے کسی کو قتل نہ کیا ہو تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16507
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: دَخَلَتْ امْرَأَةٌ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: هَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أَقِيدَ جَمَلِي؟ قَالَتْ: قِيدِي جَمَلَكِ، قَالَتْ: فَأَحْبِسُ عَلَى زَوْجِي؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَخْرِجُوا عَنِّي السَّاحِرَةَ فَأَخْرَجُوهَا.حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اگر میں جادو سے اپنے اونٹ کو قید کر لوں؟ انہوں نے فرمایا: ٹھیک ہے، کہنے لگی: اگر اپنے خاوند کو اپنا بنا لوں؟ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اسے یہاں سے نکال دو، یہ جادوگر ہے، تو اسے نکال دیا گیا۔