السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: الشهادة على الجناية باب: جنایت (جرم) پر گواہی دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16493
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدَ شُرَيْحٍ رَجُلَانِ فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ هَذَا لَهَزَهُ بِمِرْفَقِهِ فِي حَلْقِهِ فَمَاتَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَتَلَهُ؟ قَالَ الْأَعْمَشُ: فَلَمْ يُجِزْهُ. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ أَصْحَابُنَا: قَدْ يَكُونُ الضَّرْبُ وَلَا يَمُوتُ مِنْهُ، فَلَمَّا لَمْ يَقُولَا: قَتَلَهُ، لَمْ يَحْكُمْ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس دو آدمیوں نے گواہی دی کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس نے اس کی گردن پر مکا مارا اور وہ مر گیا، انہوں نے پوچھا کہ کیا تم اس کے قتل پر گواہی دیتے ہو؟ شیخ ابو الولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مارنے پر گواہی دی تھی، یہ نہیں کہا کہ قتل کیا، اس لیے ان پر حکم نہیں لگایا گیا۔