حدیث نمبر: 16470
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: لَجَأَ قَوْمٌ إِلَى خَثْعَمَ، فَلَمَّا غَشِيَهُمُ الْمُسْلِمُونَ اسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ فَقَتَلُوا بَعْضَهُمْ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَعْطُوهُمْ نِصْفَ الْعَقْلِ لِصَلَاتِهِمْ " ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: " أَلَا إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ " قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنْ كَانَ هَذَا ثَبَتَ فَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَعْطَى مَنْ أَعْطَى مِنْهُمْ مُتَطَوِّعًا، وَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فِي دَارِ شِرْكٍ لِيُعْلِمَهُمْ أَنْ لَا دِيَاتِ لَهُمْ وَلَا قَوَدَ قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ

قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک قوم نے خثعم قبیلہ سے پناہ مانگی، جب مسلمانوں نے انھیں گھیر لیا تو وہ سجدوں میں پڑ کر اپنے آپ کو بچانے لگے لیکن پھر بھی ان میں سے بعض کو قتل کر دیا، جب نبی ﷺ کو پتا چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی نمازوں کی وجہ سے نصف دیت ان کو دے دو۔“ اور اس وقت فرمایا تھا: ”میں ہر مسلم سے مشرک کے ساتھ بری ہوں“ تو انھوں نے کہا: کیوں یا رسول اللہ! کیا آپ انھیں جہنمی تصور نہیں کرتے؟
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ ثابت ہو تو میں یہ خیال کرتا ہوں کہ نبی ﷺ نے ویسے ہی تطوعاً انھیں دیا تھا اور ویسے ہی انھیں علم دینے کے لیے کہا تھا کہ ”میں مسلمان سے مشرک کے ساتھ بری ہوں“ کہ وہ دارِ شرک میں تھے تاکہ انھیں پتا چل جائے کہ نہ تو ان کے لیے دیت ہے اور نہ ہی قیاس۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16470
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»