السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
جماع أبواب كفارة القتل -- باب: ما جاء في وجوب الكفارة في أنواع قتل الخطأ باب: قتل کے کفارے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: مختلف اقسام کے قتلِ خطا میں کفارہ واجب ہونے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ}.اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ ”اور کسی مومن کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر غلطی سے، اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو (اس پر) ایک مومن گردن (غلام) آزاد کرنا اور مقتول کے ورثاء کو دیت ادا کرنا ہے، سوائے اس کے کہ وہ (ورثاء دیت) معاف کر دیں، پھر اگر وہ (مقتول) ایسی قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور وہ خود مومن ہو تو ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے، اور اگر وہ ایسی قوم سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہو تو اس کے ورثاء کو دیت ادا کرنا اور ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے۔“ [سورة النساء: 92]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: {مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ} [النساء: ٩٢] يَعْنِي فِي قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ﴾ [سورة النساء: 92] کا مطلب کہ تمہاری دشمن قوم میں۔