السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: ما جاء في قسامة الجاهلية باب: دورِ جاہلیت کے قسامہ کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَسَدِيُّ الْحَافِظُ، بِهَمَذَانَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَأَرْبَعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا قَطَنٌ أَبُو الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو يَزِيدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ قَسَامَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَفِينَا بَنِي هَاشِمٍ، كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ اسْتَأْجَرَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ فَخِذٍ أُخْرَى، فَانْطَلَقَ مَعَهُ فِي إِبِلِهِ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ، فَقَالَ: أَعِنِّي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي، لَا تَنْفِرِ الْإِبِلُ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ عِقَالًا فَشَدَّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِهِ، لَمَّا نَزَلُوا عُقِلَتِ الْإِبِلُ إِلَّا بَعِيرًا وَاحِدًا، فَقَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ: مَا شَأْنُ هَذَا الْبَعِيرِ لَمْ يُعْقَلْ مِنْ بَيْنِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: لَيْسَ لَهُ عِقَالٌ، قَالَ: فَأَيْنَ عِقَالُهُ؟ قَالَ: مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ فَاسْتَعَانَنِي، فَقَالَ: أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي، لَا تَنْفِرِ الْإِبِلُ، فَأَعْطَيْتُهُ عِقَالَهُ، قَالَ: فَحَذَفَهُ بِعَصًا كَانَ فِيهَا أَجَلُهُ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، قَالَ: أَتَشْهَدُ الْمَوْسِمَ؟ قَالَ: لَا أَشْهَدُ، وَرُبَّمَا شَهِدْتُ، قَالَ: هَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي رِسَالَةً مَرَّةً مِنَ الدُّهُورِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَتَبَ إِذَا أَنْتَ شَهِدْتَ الْمَوْسِمَ فَنَادِ: يَا آلَ قُرَيْشٍ فَإِذَا أَجَابُوكَ فَنَادِ: يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ فَإِذَا أَجَابُوكَ فَسَلْ عَنْ أَبِي طَالِبٍ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي فِي عِقَالٍ، قَالَ: وَمَاتَ الْمُسْتَأْجَرُ، فَلَمَّا قَدِمَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ أَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ صَاحِبُنَا؟ قَالَ: مَرِضَ فَأَحْسَنْتُ الْقِيَامَ عَلَيْهِ ثُمَّ مَاتَ فَوَلِيتُ دَفْنَهُ، فَقَالَ: كَانَ أَهْلَ ذَاكَ مِنْكَ، فَمَكَثَ حِينًا ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ الْيَمَانِيَّ الَّذِي كَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ أَنْ يُبَلِّغَ عَنْهُ وَافَى الْمَوْسِمَ، فَقَالَ: يَا آلَ قُرَيْشٍ، قَالُوا: هَذِهِ قُرَيْشٌ، قَالَ: يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ، قَالُوا: هَذِهِ بَنُو هَاشِمٍ، قَالَ: أَيْنَ أَبُو طَالِبٍ؟ قَالُوا: هَذَا أَبُو طَالِبٍ، قَالَ: أَمَرَنِي فُلَانٌ أَنْ أُبَلِّغَكَ رِسَالَةً، أَنَّ فُلَانًا قَتَلَهُ فِي عِقَالٍ، فَأَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ: اخْتَرْ مِنَّا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَدِّيَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ فَإِنَّكَ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا بِخَطَأٍ، وَإِنْ شِئْتَ حَلَفَ خَمْسُونَ مِنْ قَوْمِكَ أَنَّكَ لَمْ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ أَبَيْتَ قَتَلْنَاكَ بِهِ، قَالَ: فَأَتَى قَوْمَهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ ⦗٢٢٤⦘ فَقَالُوا: نَحْلِفُ، فَأَتَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَالِبٍ أُحِبُّ أَنْ تُجِيزَ ابْنِي هَذَا بِرَجُلٍ مِنَ الْخَمْسِينَ، وَلَا تُصْبِرَ يَمِينَهُ حَيْثُ تُصْبَرُ الْأَيْمَانُ، فَفَعَلَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا أَبَا طَالِبٍ أَرَدْتَ خَمْسِينَ رَجُلًا أَنْ يَحْلِفُوا مَكَانَ مِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ، نَصِيبُ كُلِّ رَجُلٍ بَعِيرَانِ، فَهَذَانِ بَعِيرَانِ فَاقْبَلْهُمَا عَنِّي وَلَا تَصْبِرْ يَمِينِي حَيْثُ تُصْبَرُ الْأَيْمَانُ، قَالَ: فَقَبِلَهُمَا، وَجَاءَ ثَمَانِيَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا فَحَلَفُوا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَوالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا حَالَ الْحَوْلُ وَمِنَ الثَّمَانِيَةِ وَالْأَرْبَعِينَ عَيْنٌ تَطْرِفُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں پہلا قسامہ ہمارے درمیان تھا کہ بنو ہاشم کے ایک شخص نے قریش کی دوسری شاخ کے ایک آدمی کو اجرت پر رکھا۔ وہ اس کے اونٹ لے کر گیا تو بنو ہاشم کا ایک اور شخص اسے ملا، اس کے اونٹ کے لگام کا کڑا ٹوٹ گیا تھا۔ تو اس نے ایک رسی مانگی جس سے وہ کڑا باندھ لے تاکہ اونٹ بھاگے نہ، تو اس نے اسے ایک رسی دے دی جس سے اس نے اپنا کڑا باندھ لیا۔ جب وہ رکے تو سب اونٹ باندھ دیے، ایک نہ باندھا تو اس کے مالک نے پوچھا: ”اس کو کیوں نہیں باندھا؟“ اس نے کہا: ”اس کی رسی نہیں ہے۔“ اس نے پوچھا: ”وہ کہاں گئی؟“ تو اس نے بتایا کہ بنو ہاشم کا ایک آدمی گزرا تھا اور اسے مکمل بات بتائی، تو اس نے اسے لاٹھی ماری جس سے وہ مر گیا۔ وہاں سے یمن کے ایک آدمی کا گزر ہوا تو اس قریب الموت آدمی نے اس سے کہا: ”کیا تم حج کے موسم میں مکہ جاؤ گے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، لیکن عنقریب میں جاؤں گا۔“ اس نے کہا: ”کیا تم میری طرف سے ایک پیغام وہاں پہنچا دو گے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ تو اس نے اسے وہ پیغام لکھ کر دیا کہ: ”پہلے قریش کو پکارنا، پھر بنو ہاشم کو اور پھر ان میں سے ابو طالب کے بارے میں پوچھنا اور انہیں کہنا کہ فلاں نے مجھے ایک رسی کے بدلے قتل کیا ہے۔“ وہ شخص جو اونٹوں کا مالک تھا مکہ آیا تو ابو طالب نے اس سے پوچھا: ”ہمارا ساتھی کہاں ہے؟“ اس نے کہا: ”وہ بیمار ہوا، میں نے اچھی طرح اس کا خیال رکھا، لیکن وہ فوت ہو گیا تو میں نے اسے دفنا دیا۔“ اس شخص کے اہل خانہ کچھ عرصہ ٹھہرے یہاں تک کہ وہ یمانی شخص آگیا اور اس نے موسمِ حج میں آلِ قریش کو پکارا، انہوں نے جواب دیا: ”یہ آلِ قریش ہے۔“ پھر اس نے بنو ہاشم کو پکارا، کہا گیا: ”یہ بنو ہاشم ہیں۔“ اس نے پوچھا: ”ابو طالب کہاں ہیں؟“ کہا گیا: ”یہ ابو طالب ہیں۔“ تو وہ شخص کہنے لگا: ”مجھے فلاں شخص نے قبل الموت یہ پیغام دیا تھا کہ فلاں نے اسے ایک رسی کے بدلے قتل کیا ہے۔“ تو ابو طالب نے قاتل کو بلایا اور کہا: ”اب ان میں سے جو چاہو پسند کر لو، یا تو دیت کے ۱۰۰ اونٹ ادا کرو یا پھر ۵۰ آدمی تمہاری برات پر قسم اٹھائیں، اگر انکار کرو گے تو ہم تمہیں بدلے میں قتل کریں گے۔“ وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور سارا واقعہ سنایا، انہوں نے کہا: ”ہم قسم اٹھاتے ہیں۔“ تو بنو ہاشم کی ایک عورت جو قاتل کی قوم کے ایک شخص کی بیوی تھی اور اس سے اس کا بچہ بھی تھا، ابو طالب کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”اے ابو طالب! اس شخص کو اس بچے کی خاطر ان ۵۰ آدمیوں سے الگ کر دیں جو قسم اٹھانے والے ہیں“، تو ابو طالب نے اسے الگ کر دیا۔ پھر ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”اے ابو طالب! پانچ آدمیوں پر دیت کے دو دو اونٹ آتے ہیں، مجھ سے دو اونٹ لے لیں اور مجھ سے قسم نہ لیں۔“ ابو طالب نے ان دونوں سے یہ بات قبول کر لی، باقی ۴۸ آدمی آئے اور انہوں نے قسم اٹھا لی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ ان ۴۸ میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچا تھا۔