السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: العاقلة باب: عاقلہ (دیت ادا کرنے والے رشتہ داروں یا برادری) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ، قَالَ: أَخَذْتُ مِنْ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذَا الْكِتَابَ، كَانَ مَقْرُونًا بِكِتَابِ الصَّدَقَةِ الَّذِي كَتَبَ عُمَرُ لِلْعُمَّالِ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَثْرِبَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ فَلَحِقَ بِهِمْ وَجَاهَدَ مَعَهُمْ، أَنَّهُمْ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ دُونَ النَّاسِ، الْمُهَاجِرِونَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى رَبْعَتِهِمْ يَتَعَاقَلُونَ بَيْنَهُمْ وَهُمْ يَفِدُونَ عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْقِسْطِ بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَبَنُو عَوْفٍ عَلَى رَبْعَتِهِمْ يَتَعَاقَلُونَ مَعَاقِلَهُمُ الْأُولَى، وَكُلُّ طَائِفَةٍ تَفْدِي عَانِيَهَا بِالْمَعْرُوفِ وَالْقِسْطِ بَيْنَ ⦗١٨٥⦘ الْمُؤْمِنِينَ " ثُمَّ ذَكَرَ عَلَى هَذَا النَّسَقِ بَنِي الْحَارِثِ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ، ثُمَّ بَنِي جُشَمَ، ثُمَّ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ثُمَّ بَنِي النَّبِيتِ، ثُمَّ بَنِي الْأَوْسِ، ثُمَّ قَالَ: " وَإِنَّ الْمُؤْمِنِينَ لَا يَتْرُكُونَ مُفْرَحًا مِنْهُمْ أَنْ يُعْطُوهُ بِالْمَعْرُوفِ فِي فِدَاءٍ أَوْ عَقْلٍ ".عثمان بن محمد بن عثمان بن اخنس بن شریق کہتے ہیں کہ میں نے آلِ عمر رضی اللہ عنہ سے یہ تحریر لی، جو صدقہ کے اس خط کے ساتھ ملی ہوئی تھی جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمال کو لکھا تھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، ”یہ تحریر محمد نبی ﷺ کی طرف سے قریش اور یثرب کے مسلمانوں اور مومنوں کے درمیان ہے، اور ان کے لیے بھی جو ان کے پیچھے چلے، ان سے آ ملے اور ان کے ساتھ جہاد کیا، کہ وہ (دوسرے) لوگوں کے مقابلے میں ایک امت ہیں۔ قریش کے مہاجرین اپنے سابقہ دستور پر آپس میں ایک دوسرے کی دیت ادا کریں گے اور وہ اپنے قیدیوں کا فدیہ مومنوں کے درمیان بھلائی اور انصاف کے ساتھ ادا کریں گے، اور بنو عوف اپنے سابقہ دستور پر اپنی پہلی دیتیں ادا کریں گے، اور ہر گروہ اپنے قیدی کا فدیہ مومنوں کے درمیان بھلائی اور انصاف کے ساتھ ادا کرے گا۔“ پھر اسی ترتیب پر ذکر کیا: بنو حارث، پھر بنو ساعدہ، پھر بنو جشم، پھر بنو نجار، پھر بنو عمرو بن عوف، پھر بنو نبیت، پھر بنو اوس، پھر فرمایا: ”اور بیشک مومن اپنے میں سے کسی قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے شخص کو نہیں چھوڑیں گے بلکہ فدیہ یا دیت میں بھلائی کے ساتھ اس کی مدد کریں گے۔“