حدیث نمبر: 16369
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ، قَالَ: أَخَذْتُ مِنْ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذَا الْكِتَابَ، كَانَ مَقْرُونًا بِكِتَابِ الصَّدَقَةِ الَّذِي كَتَبَ عُمَرُ لِلْعُمَّالِ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَثْرِبَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ فَلَحِقَ بِهِمْ وَجَاهَدَ مَعَهُمْ، أَنَّهُمْ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ دُونَ النَّاسِ، الْمُهَاجِرِونَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى رَبْعَتِهِمْ يَتَعَاقَلُونَ بَيْنَهُمْ وَهُمْ يَفِدُونَ عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْقِسْطِ بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَبَنُو عَوْفٍ عَلَى رَبْعَتِهِمْ يَتَعَاقَلُونَ مَعَاقِلَهُمُ الْأُولَى، وَكُلُّ طَائِفَةٍ تَفْدِي عَانِيَهَا بِالْمَعْرُوفِ وَالْقِسْطِ بَيْنَ ⦗١٨٥⦘ الْمُؤْمِنِينَ " ثُمَّ ذَكَرَ عَلَى هَذَا النَّسَقِ بَنِي الْحَارِثِ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ، ثُمَّ بَنِي جُشَمَ، ثُمَّ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ثُمَّ بَنِي النَّبِيتِ، ثُمَّ بَنِي الْأَوْسِ، ثُمَّ قَالَ: " وَإِنَّ الْمُؤْمِنِينَ لَا يَتْرُكُونَ مُفْرَحًا مِنْهُمْ أَنْ يُعْطُوهُ بِالْمَعْرُوفِ فِي فِدَاءٍ أَوْ عَقْلٍ ".
حافظ ثناء اللہ

عثمان بن محمد بن عثمان بن اخنس بن شریق کہتے ہیں کہ میں نے آلِ عمر رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ خط لے کر پڑھا جو صدقہ کے خط سے ملا ہوا تھا، جو آپ رضی اللہ عنہ نے عمال کو لکھا تھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، ”یہ خط محمد نبی ﷺ کی طرف سے مسلمانوں اور مومنین کے لیے قریش اور یثرب سے اور جو بھی ان سے ملا اور ان کی پیروی کی، ان کے ساتھ جہاد کیا وہ ایک امت کی طرح ہیں۔ قریش کے مہاجرین کے علاوہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی دیت کے ضامن ہیں، وہ نیکی کے ساتھ آپس میں فدیہ ادا کرتے ہیں اور مومنین کے درمیان انصاف قائم کرتے ہیں اور بنو عوف اپنے معاملے پر ہیں کہ وہ اپنی اولی دیت ادا کرتے ہیں اور اپنے عالی کا فدیہ ادا کرتے ہیں اور مومنوں کے درمیان انصاف۔“ پھر یہ ترتیب ذکر کی: بنو حارث، پھر بنو ساعدہ، پھر بنو جشیم، پھر بنو نجار، پھر بنو عمرو بن عوف، پھر بنو نبیت، پھر بنو اوس، پھر فرمایا: ”بیشک مومن نہ چھوڑیں باہم بھاری قرض، وہ نیکی سے فدیہ ادا کریں اور دیت۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16369