السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما جاء في الترقوة والضلع باب: ہنسلی کی ہڈی اور پسلی کی دیت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16333
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَضَى فِي الضِّرْسِ بِجَمَلٍ، وَفِي التَّرْقُوَةِ بِجَمَلٍ، وَفِي الضِّلَعِ بِجَمَلٍ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي الْأَضْرَاسِ خَمْسٌ خَمْسٌ لِمَا جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي السِّنِّ خَمْسٌ وَكَانَتِ الضِّرْسُ سِنًّا، وَأَنَا أَقُولُ بِقَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّرْقُوَةِ وَالضِّلَعِ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُخَالِفْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا عَلِمْتُهُ، فَلَمْ أَرَ أَنْ أَذْهَبَ إِلَى رَأْيِي فَأُخَالِفَهُ بِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الْجِرَاحِ: يُشْبِهُ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَكُونَ مَا حُكِيَ عَنْ عُمَرَ فِيمَا وَصَفْتُ حُكُومَةً لَا تَوْقِيتَ عَقْلٍ، فَفِي كُلِّ عَظْمٍ كُسِرَ مِنْ إِنْسَانٍ غَيْرَ السِّنِّ حُكُومَةٌ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْهَا أَرْشٌ مَعْلُومٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے داڑھ، ہنسلی کی ہڈی اور پسلی میں ایک اونٹ دیت کا فیصلہ فرمایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ داڑھ میں پانچ اونٹ ہیں کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ”دانت میں پانچ اونٹ ہیں“ اور داڑھ بھی دانت ہے اور ہنسلی کی ہڈی اور پسلی میں میرا موقف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والا ہی ہے کیونکہ کسی صحابی نے اس کی کوئی مخالفت نہیں کی اور میں بھی کوئی وجہ اختلاف نہیں پاتا، اور فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جو داڑھ میں ایک اونٹ کا ذکر ہے، یہ شاید اس وجہ سے ہے کہ یہ حکومتی فیصلے پر ہے کہ اس میں کوئی مقررہ دیت نہیں ہے۔