السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: الصحيح يصيب عين الأعور، والأعور يصيب عين الصحيح باب: صحیح سالم آنکھوں والا کانے کی آنکھ پھوڑ دے، اور کانا صحیح سالم آنکھوں والے کی آنکھ پھوڑ دے تو اس کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 16301
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَعْوَرِ، تُفْقَأُ عَيْنُهُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ: قَضَى فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالدِّيَةِ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ يُحَدِّثُكَ عَنْ عُمَرَ؟ ظَاهِرُ هَذَا أَنَّهُ حَكَمَ فِيهِ بِجَمِيعِ الدِّيَةِ وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنَّهُ حَكَمَ فِيهَا بِدِيَتِهَا، وَظَاهِرُهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَقُولُ فِيهَا بِوجُوبِ جَمِيعِ الدِّيَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ابومجلز کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کانے کے بارے میں سوال کیا جس کی آنکھ پھوڑ دی جائے تو عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیت کا فیصلہ فرمایا۔ میں نے کہا: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کروں گا تو فرمایا: کیا وہ تمہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ نہیں بیان کر رہے؟ اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں مکمل دیت کا فیصلہ فرمایا، لیکن اس کا بھی احتمال ہے کہ ایک آنکھ کی دیت کا فیصلہ فرمایا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ وہ مکمل دیت کے وجوب کے قائل نہیں تھے۔