السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب تأكيد السواك عند القيام إلى الصلاة باب: نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت مسواک کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 162
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، قَالَا: أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمَجْدَ آبَادِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أُمِرْنَا بِالسِّوَاكِ. وَقَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَتَاهُ الْمَلَكُ فَقَامَ خَلْفَهُ يَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ وَيَدْنُو، فَلَا يَزَالُ يَسْتَمِعُ وَيَدْنُو حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ، فَلَا يَقْرَأُ آيَةً إِلَّا كَانَتْ فِي جَوْفِ الْمَلَكِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم کو نماز کا حکم دیا گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس فرشتہ آتا ہے جو اس کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے، وہ قرآن سنتا ہے اور قریب ہو جاتا ہے، وہ سنتا رہتا ہے اور قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ لیتا ہے، پھر وہ جو بھی آیت پڑھتا ہے وہ فرشتے کے پیٹ میں چلی جاتی ہے۔“