السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: تقدير البدل باثني عشر ألف درهم أو بألف دينار على قول من جعلهما أصلين باب: دیت کے متبادل کو بارہ ہزار درہم یا ایک ہزار دینار مقرر کرنے کا بیان، ان ائمہ کے قول کے مطابق جنہوں نے ان دونوں کو اصل (بنیاد) قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 16182
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، بَيْنَمَا هِيَ مَرَّةً تُصَلِّي إِذَا بِحَيَّةٍ قَرِيبَةٍ مِنْهَا فَأَمَرَتْ بِهَا فَقُتِلَتْ، فَأُتِيَتْ فِي مَنَامِهَا: أَقَتَلْتِ رَجُلًا مُسْلِمًا جَاءَ يَسْمَعُ الْقُرْآنَ؟ فَدِيهِ قَالَ: فَأَخْرَجَتْ دِيَتَهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ورُوِّينَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الدِّيَةَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا.حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نماز پڑھ رہی تھیں کہ ایک سانپ قریب ہی نکل آیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حکم پر اسے مار دیا گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ انہیں کہا جا رہا ہے کہ تو نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا جو قرآن سننے آیا تھا؟ اس کی دیت ادا کرو، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی دیت ۱۲۰۰۰ درہم ادا کی۔