السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
جماع أبواب أسنان إبل الخطأ، وتقويمها، وديات النفوس والجراح، وغيرها -- باب: دية النفس باب: قتلِ خطا کی دیت کے اونٹوں کی عمروں، ان کی قیمت کے تعین، جانوں اور زخموں کی دیت، اور دیگر متعلقہ ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: جان کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 16146
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فِي الدِّيَاتِ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: " وَفِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ " قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فقُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: أَفِي شَكٍّ أَنْتُمْ مِنْ أَنَّهُ كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مَوْصُولًا.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں خبر دی کہ جو خط نبی ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے لکھا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ ”قتل کے بدلے دیت 100 اونٹ ہے۔“
ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: میں نے عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا تمہیں شک ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کا خط ہے؟ کہنے لگے: نہیں۔