حدیث نمبر: 16135
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَضَى فِيمَنْ قَتَلَ فِي الْحَرَمِ أَوْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ أَوْ هُوَ مُحْرِمٌ بِالدِّيَةِ وَثُلُثِ الدِّيَةِ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ جو حرم میں، حرمت والے مہینے میں اور احرام میں قتل کیا جائے تو اس کی مکمل دیت اور ثلث دیت زائد وصول کی جائے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جو حرمت والے مہینے میں قتل کرے تو اس سے دیت 4000 چار ہزار اضافی وصول کیے جائیں اور اس بارے میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کا ایک فیصلہ منقول ہے کہ ”اس میں بھی 100 اونٹ ہیں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 12000 بارہ ہزار اضافے کا فیصلہ فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ ثلث دیت اضافی لی جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16135
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»