السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما جاء في تغليظ الدية في قتل الخطأ في الشهر الحرام والبلد الحرام وقتل ذي الرحم باب: حرمت والے مہینے، حرمت والے شہر اور قریبی رشتہ دار کو قتلِ خطا کے ذریعے مارنے پر دیت میں سختی (اضافہ) کیے جانے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16135
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَضَى فِيمَنْ قَتَلَ فِي الْحَرَمِ أَوْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ أَوْ هُوَ مُحْرِمٌ بِالدِّيَةِ وَثُلُثِ الدِّيَةِ.حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں جو حرم میں یا حرمت والے مہینے میں یا احرام کی حالت میں قتل کرے، یہ فیصلہ فرمایا کہ اس سے مکمل دیت اور ثلث دیت زائد وصول کی جائے۔