السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في الاستثناء بالقصاص من الجرح والقطع باب: زخم لگانے اور اعضاء کاٹنے کے قصاص میں استثناء کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16115
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقِدْنِي، قَالَ: " حَتَّى تَبْرَأَ " ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَقِدْنِي، فَأَقَادَهُ، ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَرَجْتُ، فَقَالَ: " قَدْ نَهَيْتُكَ فَعَصَيْتَنِي، فَأَبْعَدَكَ اللهُ وَبَطَلَ عَرَجُكَ " ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْ جُرْحٍ حَتَّى يَبْرَأَ صَاحِبُهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے کو سینگ مار کر زخمی کر دیا تو وہ قصاص لینے نبی ﷺ کے پاس آ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پہلے ٹھیک ہو جاؤ۔“ وہ پھر مطالبہ کرنے آ گیا تو آپ ﷺ نے قصاص دلوا دیا۔ پھر کچھ عرصے بعد آیا تو کہنے لگا: یا رسول اللہ ﷺ! میں لنگڑا ہو چکا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا؟ تو نے میری نافرمانی کی، اللہ تجھے دور کرے۔“ پھر آپ ﷺ نے منع کر دیا کہ زخم کے ٹھیک ہونے تک قصاص نہ لیا جائے۔