السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما لا قصاص فيه باب: جن صورتوں میں قصاص واجب نہیں ہوتا، ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 16102
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْفَرَجِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ الْعِجْلِيِّ، حَدَّثَنِي نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا ضَرَبَ رَجُلًا بِالسَّيْفِ عَلَى سَاعِدِهِ فَقَطَعَهَا مِنْ غَيْرِ مَفْصِلٍ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِالدِّيَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُرِيدُ الْقِصَاصَ قَالَ لَهُ: " خُذِ الدِّيَةَ، بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا "، وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِ.حافظ ثناء اللہ
نمران بن جاریہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو پر مارا، ہڈی تو بچ گئی، لیکن وہ زخمی ہو گیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے دیت کا حکم دے دیا۔ وہ شخص کہنے لگا: مجھے قصاص چاہیے تو آپ ﷺ نے فرمایا: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ فِيْهَا، خُذِ الدِّيَةَ» ”اللہ تجھے اس میں برکت دے، دیت لے لو۔“ اور آپ ﷺ نے اسے قصاص نہیں دلوایا۔