السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
جماع أبواب القصاص فيما دون النفس باب: جان کے علاوہ دیگر اعضاء کے قصاص کے ابواب کا جامع بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَطَمَتِ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ جَارِيَةً فَكَسَرَتْ ثَنِيَّتَهَا، فَطَلَبُوا إِلَيْهِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا، وَعَرَضُوا الْأَرْشَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: يَا رَسُولَ اللهِ: أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَنَسُ كِتَابُ اللهِ الْقِصَاصُ" فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ ظَاهِرُ الْخَبَرَيْنِ يَدُلُّ عَلَى كَوْنِهِمَا قِصَّتَيْنِ، وَإِلَّا فَثَابِتٌ أَحْفَظُ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو تھپڑ مارا اور اس کے ثنیہ دانت توڑ دیے، انہوں نے معافی مانگی لیکن انہوں نے انکار کر دیا، انہوں نے دیت کی بات کی تو بھی انکار کر دیا، فیصلہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے قصاص کا حکم دے دیا، سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ربیع کے بھی ثنیہ دانت توڑے جائیں گے؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ایسا نہیں ہو سکتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہے“، قوم دیت پر راضی ہو گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں تو اللہ ان کی قسم پوری فرما دیتے ہیں“۔