السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
جماع أبواب القصاص فيما دون النفس باب: جان کے علاوہ دیگر اعضاء کے قصاص کے ابواب کا جامع بیان۔
حدیث نمبر: 16095
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ، جَرَحَتْ إِنْسَانًا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ" فَقَالَتْ أُمُّ الرُّبَيِّعِ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ، وَاللهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُبْحَانَ اللهِ الْقِصَاصُ كِتَابُ اللهِ" قَالَتْ: وَاللهِ لَا ⦗١١٣⦘ يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا قَالَ: فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَفَّانَ.حافظ ثناء اللہ
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک انسان کو زخمی کر دیا۔ جھگڑا نبی ﷺ کے پاس آ گیا تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ ”قصاص ہو گا۔“ ام ربیع کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا فلانہ سے بھی قصاص لیا جائے گا؟ اللہ کی قسم! ہرگز نہیں۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب میں قصاص ہی ہے۔“ تو وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! قصاص کبھی نہیں لیا جا سکتا، وہ ہمیشہ یہی کہتی رہی یہاں تک کہ وہ لوگ دیت پر راضی ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے کتنے ہی ایسے بندے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں تو اللہ ان کو بری کر دیتے ہیں۔“