السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: يحفظ الإمام سيفه ليأخذ سيفا صارما لا يعذبه ولا يمثل به باب: امام تلوار کا جائزہ لے گا تاکہ تیز دھار تلوار استعمال کی جائے، جس سے مجرم کو اذیت نہ ہو اور نہ ہی اس کا مثلہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 16077
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ⦗١٠٧⦘ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَصْلَتَانِ سَمِعْتُهُمَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ " لَفْظُ حَدِيثِ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے دو خصلتوں کے بارے میں سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان فرض کر دیا ہے۔ جب تم قتل کرو تو قتل میں احسان کرو اور جب تم ذبح کرو تو ذبح میں احسان کرو، اپنی چھری کو تیز کر لو اور ذبیحہ کو آرام پہنچاؤ۔“