حدیث نمبر: 1604
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ عِنْدَ قَوْلِهِ: " أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي " وَزَادَ أَيْضًا: " وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قَالَتْ حَمْنَةُ: فَقُلْتُ: هَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلِيَّ لَمْ يَجْعَلْهُ كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَهُ كَلَامَ حَمْنَةَ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ هَذَا غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ ⦗٥٠١⦘ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: حَدِيثُ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيَمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ هُوَ قَدِيمٌ لَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ أَمْ لَا وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يَقُولُ: هُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَمَّا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فَقَدْ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: هِيَ أُمُّ حَبِيبَةَ كَانَتْ تُكْنَى بِأُمِّ حَبِيبَةَ وَهِيَ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُهُ وَخَالَفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَزَعَمَ أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ لَيْسَتْ بِحَمْنَةَ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْهَرُ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ ابْنِ عَقِيلٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا غَيْرَ أُمِّ حَبِيبَةَ وَكَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ رُبَّمَا ⦗٥٠٢⦘ قَالَ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ: حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ وَهُوَ خَطَأٌ إِنَّمَا هِيَ أُمُّ حَبِيبَةَ كَذَلِكَ قَالَهُ أَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ سَوَاءٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَقِيلٍ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ فِي الْمُعْتَادَةِ إِلَّا أَنَّهَا شَكَّتْ فَأَمَرَهَا إِنْ كَانَ سِتًّا أَنْ يَتْرُكَهَا سِتًّا وَإِنْ كَانَ سَبْعًا أَنْ يَتْرُكَهَا سَبْعًا وَالْمُبْتَدِئَةُ تَرْجِعُ إِلَى أَقَلِّ الْحَيْضِ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ فِي الْمُبْتَدِئَةِ تَرْجِعُ إِلَى الْأَغْلَبِ مِنْ حِيَضِ النِّسَاءِ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَيُذْكَرُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ فِي الْبِكْرِ يَسْتَمِرُّ بِهَا الدَّمُ: تَقْعُدُ كَمَا تَقْعُدُ نِسَاؤُهَا.
حافظ ثناء اللہ

(الف) عبدالملک بن عمرو نے اس کو اسی سند سے بیان کیا ہے مگر یہ الفاظ زائد ہیں: ”یا چوبیس دن اور ان کی راتیں اور روزے رکھ۔“
(ب) اور یہ الفاظ بھی زائد ہیں: ”تو فجر کے ساتھ غسل کر، ایسا کر اور روزے رکھ اگر تم اس پر قدرت رکھتی ہو۔“
(ج) امام ابوداؤد فرماتے ہیں: ابن عقیل کہتے ہیں کہ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو میں نے عرض کیا: یہ دونوں کاموں میں مجھے زیادہ پسند ہے۔ یہ نبی ﷺ کی بات نہیں بلکہ سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کا کلام ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں: عمرو بن ثابت قابلِ حجت نہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مستحاضہ کے متعلق سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی روایت حسن ہے۔ چونکہ مجھے معلوم نہیں کہ ابراہیم بن محمد بن طلحہ کا عبداللہ بن محمد بن عقیل سے سماع ہے یا نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ز) شیخ کہتے ہیں: حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کے متعلق علی بن مدینی کہتے ہیں کہ وہ حبیبہ کی ماں ہیں اور ان کی کنیت ام حبیبہ ہے اور ان کا نام حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ہے۔ (س) یہ قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہے۔ (ط) یحییٰ بن معین نے ان کی مخالفت کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا مستحاضہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحيض / حدیث: 1604
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 287»