حدیث نمبر: 16027
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ ذَا صَوْتٍ وَنِكَايَةٍ عَلَى الْعَدُوِّ مَعَ أَبِي مُوسَى فَغَنِمُوا مَغْنَمًا فَأَعْطَاهُ أَبُو مُوسَى نَصِيبَهُ وَلَمْ يُوفِّهِ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ إِلَّا جَمِيعًا، فَضَرَبَهُ عِشْرِينَ سَوْطًا وَحَلَقَ رَأْسَهُ، فَجَمَعَ شَعْرَهُ وَذَهَبَ بِهِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ جَرِيرٌ: " وَأَنَا أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْهُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْهُ، ⦗٩٠⦘ فَأَخْرَجَ شَعْرًا مِنْ جَيْبِهِ فَضَرَبَ بِهِ صَدْرَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا لَكَ؟ فَذَكَرَ قِصَّتَهُ قَالَ: فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ فُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ أَخْبَرَنِي بِكَذَا وَكَذَا، وَإِنِّي أُقْسِمُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فِي مَلَأٍ مِنَ النَّاسِ جَلَسْتَ لَهُ فِي مَلَأٍ مِنَ النَّاسِ فَاقْتَصَّ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فِي خَلَاءٍ فَاقْعُدْ لَهُ فِي خَلَاءٍ فَلْيَقْتَصَّ مِنْكَ قَالَ لَهُ النَّاسُ: اعْفُ عَنْهُ، قَالَ: لَا وَاللهِ، لَا أَدَعُهُ لِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ فَلَمَّا دَفَعَ إِلَيْهِ الْكِتَابَ قَعَدَ لِلْقَصَاصِ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنْهُ لِلَّهِ.
حافظ ثناء اللہ

جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص جو دشمنوں پر بہت رعب اور دبدبے والا تھا، وہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، غنیمت کا مال تقسیم ہوا تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے اس کا حصہ دے دیا لیکن پورا نہیں دیا۔ اس نے لینے سے انکار کر دیا اور پورے کا مطالبہ کیا تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے ۲۰ کوڑے مارے اور اس کا سر مونڈ دیا۔ وہ شخص اپنے بال لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا۔ اس نے وہ بال جیب سے نکالے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ تو اس نے سارا قصہ سنایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد! مجھے فلاں بن فلاں نے اس طرح خبر دی ہے تو میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر آپ نے اس کے ساتھ یہ سلوک لوگوں کے سامنے کیا ہے تو لوگوں کے سامنے، اگر اکیلے میں کیا ہے تو اکیلے میں اسے قصاص دو۔“ تو لوگ اس شخص کو کہنے لگے: ”معاف کر دو۔“ تو وہ کہنے لگا: ”ہرگز نہیں، اللہ کی قسم!“ جب سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس نے خط دیا تو آپ رضی اللہ عنہ قصاص کے لیے بیٹھ گئے تو اس نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہنے لگا: ”میں نے اللہ کے لیے معاف کر دیا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16027
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»