السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في قتل الإمام وجرحه باب: امام (حکمران) کو قتل کرنے یا اسے زخمی کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَعَافِرِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَامَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَالَ: " إِذَا كَانَ بِالْغَدَاةِ فَاحْضُرُوا صَدَقَاتِ الْإِبِلِ تُقْسَمُ، وَلَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ إِلَّا بِإِذْنٍ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: خُذْ هَذَا الْخِطَامَ لَعَلَّ اللهَ يَرْزُقُنَا جَمَلًا، فَأَبَى الرَّجُلُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا قَدْ دَخَلُوا إِلَى الْإِبِلِ فَدَخَلَ مَعَهُمَا، فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا أَدْخَلَكَ عَلَيْنَا؟ ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ الْخِطَامَ فَضَرَبَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ قَسْمِ الْإِبِلِ دَعَا بِالرَّجُلِ فَأَعْطَاهُ الْخِطَامَ وَقَالَ: اسْتَقِدْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: وَاللهِ لَا يَسْتَقِيدُ، لَا تَجْعَلْهَا سُنَّةً قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَمَنْ لِي مِنَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرْضِهِ فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غُلَامَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِرَاحِلَتِهِ وَرَحْلِهَا وَقَطِيفَةٍ وَخَمْسَةِ دَنَانِيرَ، فَأَرْضَاهُ بِهَا.سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ کل صدقہ کے اونٹ لے آنا تاکہ انہیں تقسیم کر دیا جائے اور بغیر اجازت ہمارے پاس کوئی نہ آئے۔ تو ایک عورت نے اپنے خاوند کو کہا کہ یہ لگام لو شاید کل اللہ ہمیں بھی کوئی اونٹ عطا فرما دے تو آدمی نے انکار کر دیا۔ جب دوسرے دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس شخص نے اونٹوں کے پاس داخل ہوتے دیکھا تو یہ بھی داخل ہو گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ اور اس سے لگام لے کر اسے مارا۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہو گئے تو اس شخص کو بلایا اور اسے لگام دے کر فرمایا: قصاص لے لو۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ اسے سنت نہ بنائیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کل قیامت کے دن اللہ سے کون بچائے گا؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ دیت پر راضی کر لو تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اسے اپنی اور آپ کی سواری بھی دے دے، ایک چادر اور پانچ دینار بھی دے دے تو وہ شخص اس پر راضی ہو گیا۔