السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في قتل الإمام وجرحه باب: امام (حکمران) کو قتل کرنے یا اسے زخمی کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ ⦗٨٨⦘ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَةٍ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا "، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ: " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا "، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ: " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا "، فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي خَاطِبٌ الْعَشِيَّةَ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ " فَقَالُوا: نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا، أَفَرَضِيتُمْ؟ " قَالُوا: لَا، فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا عَنْهُمْ، فَكَفُّوا عَنْهُمْ، ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ فَقَالَ: " أَرَضِيتُمْ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ "، قَالُوا: نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَرَضِيتُمْ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ابو جہم کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا۔ ایک شخص نے کچھ حیل و حجت کی تو ابو جہم نے اسے مارا اور زخمی کر دیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کر دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم یہ یہ لے لو۔“ وہ نہ مانے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ یہ بھی لے لو۔“ وہ پھر بھی نہ مانے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ یہ بھی لے لو۔“ تو وہ راضی ہو گئے۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں شام کو لوگوں کو خطبہ دوں گا اور تمہاری رضا مندی کے بارے میں انہیں بتا دوں گا۔“ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے۔“ آپ ﷺ نے شام کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”یہ لیثی لوگ میرے پاس قصاص کے لیے آئے تھے، میں نے انہیں اس اس کی پیش کش کی تو یہ راضی ہو گئے، کیا تم راضی ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ اس سے ان کی مراد مہاجرین تھے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے روک دو۔“ تو روک لیا گیا۔ پھر انہیں بلایا اور زیادہ دیا تو وہ راضی ہو گئے۔ آپ ﷺ نے پھر شام کو خطبہ ارشاد فرمایا اور انہیں ان کی رضا مندی کی اطلاع دی اور پوچھا: ”کیا تم راضی ہو؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، ہم راضی ہیں۔“