حدیث نمبر: 16017
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ يَعْنِي مَحْبُوبَ بْنَ مُوسَى، ثنا الْفَزَارِيُّ يَعْنِي أَبَا إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " أَلَا وَإِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكُمْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، وَلَكِنْ بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَنَكُمْ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ غَيْرُ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلِيَّ فَأُقِصَّهُ مِنْهُ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَكُنْتَ مُقْتَصَّهُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ.
حافظ ثناء اللہ

ابو فراس فرماتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! مجھے تمہاری طرف ایسا عامل نہیں بنایا گیا جو تمہارے لوگوں کو مارے اور تمہارا مال چھین لے۔ بلکہ مجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں تمہیں تمہارا دین اور اس کی سنتیں سکھاؤں۔ اگر اس کے علاوہ میں کسی پر زیادتی کروں تو وہ مجھ سے قصاص کا مطالبہ کر سکتا ہے۔“ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اگر کوئی اپنی رعایا کو ادب سکھانے کے لیے مارے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟“ فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم! میں اس سے قصاص لوں گا؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے آپ سے قصاص دیا تھا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16017
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»