السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب التطهير بالماء الذي خالطه طاهر لم يغلب عليه باب: اس پانی سے پاکی حاصل کرنے کا بیان جس میں کوئی پاک چیز مل جائے مگر اس پر غالب نہ آئے
حدیث نمبر: 16
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلَهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ". وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ لِأَبِي عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ، وَأَبِي الْحُسَيْنِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيِّ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ وَغَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بیٹی فوت ہوئیں تو آپ ﷺ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو اور اس کو طاق عدد میں غسل دو، یعنی تین مرتبہ، پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ اگر اس کی ضرورت ہو اور آخر میں کافور لگاؤ یا (یوں کہا) کافور کا کچھ حصہ لگاؤ۔“